Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: جبران ناصر کا تشویشناک انکشاف
نامور انسانی حقوق کے وکیل جبران ناصر نے انکشاف کیا ہے کہ میر رضا علی کو قتل کرنے سے پہلے بارہ گھنٹے تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس اندوہناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقتول کے لواحقین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی: نامور قانون دان اور انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن جبران ناصر نے میر رضا علی کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقتول میر رضا علی کو موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل پورے بارہ گھنٹے تک ناقابلِ بیان اور شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دل دہلا دینے والا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں بڑھتے ہوئے تشدد اور قانون شکنی کے واقعات پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جبران ناصر نے اس سفاکانہ واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام مجرمان کو فوراً بے نقاب کیا جائے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، میر رضا علی کی موت محض ایک عام قتل کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے گھناؤنی سازش اور انسانیت سوز تشدد کارفرما تھا۔ جبران ناصر نے میڈیا اور متعلقہ حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارہ گھنٹے تک کسی انسان کو تشدد کا نشانہ بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پورے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اندوہناک واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
اس لرزہ خیز واقعے کے بعد سول سوسائٹی اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر مجرمان کو فوری طور پر کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو اس سے معاشرے میں قانون کی عملداری مزید کمزور ہوگی۔ جبران ناصر نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس کیس میں انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کریں گے اور مقتول کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ عوام اور انصاف پسند حلقے اس وقت حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے پُرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس کیس کا فوری نوٹس لیں اور انصاف کے تقاضے پورے کریں۔