World
ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر عالمی ادارہ صحت کا ردعمل اور ویکسینیشن کا دفاع
عالمی ادارہ صحت نے بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کے روایتی شیڈول کا سختی سے دفاع کیا ہے۔ یہ بیان نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بچپن کے ٹیکوں کی تعداد کم کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کے روایتی شیڈول کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں بچپن میں لگائے جانے والے ٹیکوں کی تعداد میں کمی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد عالمی سطح پر طبی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے بچوں کو خطرناک بیماریوں سے بچانے کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ترجمانوں اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن میں لگائے جانے والے تمام حفاظتی ٹیکے سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی طبی معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ ویکسینز خسرہ، پولیو، خناق اور دیگر مہلک بیماریوں کے خلاف بچوں کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہیں۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ ویکسینیشن کے شیڈول میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری یا سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی کمی بچوں کی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے اور دنیا بھر میں وبائی امراض کے دوبارہ سر اٹھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ نئے احکامات کا مقصد بچوں پر طبی دباؤ کو کم کرنا اور والدین کو ان کے بچوں کے لیے بہتر طبی فیصلے کرنے کی مکمل آزادی دینا ہے۔ تاہم، ماہرینِ صحت اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اجتماعی صحت کے تحفظ کے لیے وبائی امراض کے خلاف ویکسینیشن کا عالمی معیار برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سائنسی شواہد پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دیں تاکہ بچوں کو ناقابلِ تلافی نقصانات سے بچایا جا سکے اور عالمی سطح پر صحت عامہ کے معیارات کو برقرار رکھا جا سکے۔