Business
سی ایف اوز کی کسٹمر تجربہ (CX) پروپوزل سے توقعات
کمپنی کے مالیاتی سربراہان کسٹمر تجربے (CX) کے منصوبوں میں محض تسکین کے وعدوں کے بجائے واضح مالی فوائد دیکھنا چاہتے ہیں۔ سی ایف اوز ایسے ٹھوس اعداد و شمار کے متمنی ہوتے ہیں جو ریفنڈ کے حجم، غیر ضروری عملے یا خطرے سے دوچار آمدنی سے جڑے ہوں۔
کاروباری دنیا میں جب بھی کسٹمر تجربے یعنی سی ایکس (CX) کی بہتری کے لیے کوئی نئی تجویز یا پروپوزل پیش کی جاتی ہے، تو مالیاتی سربراہان یعنی سی ایف اوز (CFOs) کا نقطہ نظر انتہائی نکتہ سنج اور حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔ اکثر روایتی انداز میں یہ پیشکش کی جاتی ہے کہ کسٹمر کے اطمینان میں اضافہ ہو گا، لیکن جدید کاروباری ماحول میں یہ بات مالیاتی ذمہ داران کو مطمئن کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔ سی ایف اوز اس بات کے خواہاں ہوتے ہیں کہ ہر پروپوزل کے ساتھ ایک واضح اور ٹھوس ڈالر یا روپے کا ہندسہ منسلک ہو، جو کمپنی کی موجودہ کارکردگی سے براہ راست جڑا ہو۔
اس ضمن میں مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجاویز ایسی ہونی چاہئیں جو ریفنڈ کے حجم میں کمی، غیر ضروری افرادی قوت یعنی ہیڈ کاؤنٹ میں بچت، یا پھر خطرے سے دوچار آمدنی کو بچانے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ جب تک کسٹمر تجربے کی قیادت ان مالیاتی میٹرکس کو ثابت نہیں کرتی، سی ایف اوز کے لیے بڑے بجٹ کی منظوری دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہذا، سی ایکس لیڈرز کو چاہیے کہ وہ محض جذباتی یا صارفین کے اچھے تاثرات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے منصوبوں کو سخت مالیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کریں۔
موجودہ معاشی چیلنجز کے پیش نظر تمام محکموں پر اخراجات کم کرنے کا دباؤ ہے، اور کسٹمر تجربے کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ جب تک یہ شعبہ یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ان کی سرمایہ کاری براہ راست کمپنی کے منافع اور اخراجات میں کمی کا باعث بن رہی ہے، تب تک اعلیٰ سطحی حمایت حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کاروباری تجزیہ کاروں کے مطابق، کامیاب سی ایکس لیڈر وہی ہیں جو مالیاتی زبان بولنا جانتے ہیں اور اپنے منصوبوں کو کمپنی کے بنیادی مالی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔