LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کے جاسوس اے آئی اور ایل ایل ایمز کا استعمال کرنے لگے

News Image
جنوبی کوریا کی سکیورٹی فرم جینینز کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری ہیکرز اپنے سائبر حملوں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے لیے مقامی سطح پر بڑے لینگویج ماڈلز چلا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں سائبر سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
جنوبی کوریا کی معروف سکیورٹی فرم جینینز کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا کے سرکاری جاسوس اور ہیکرز اپنے سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ ریاستی عناصر مقامی سطح پر بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) چلا رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اسے اپنے آپریشنز میں بنیادی حیثیت دے سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد سائبر حملوں کی رفتار اور دائرہ کار کو بڑھانا ہے۔ جینینز کے محققین نے نشاندہی کی ہے کہ شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپس روایتی طریقوں کے علاوہ اب جدید ڈیجیٹل ٹولز کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر ایل ایل ایمز چلانے سے انہیں یہ سہولت مل رہی ہے کہ وہ بیرونی سکیورٹی نیٹ ورکس کی نظروں سے بچے رہیں اور اپنی مرضی کے مطابق مالویئر یا فشنگ مہمات تیار کریں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ گروپس کم وقت میں زیادہ نفیس اور ہدف شدہ حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں، جو عالمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کا یہ استعمال عالمی سائبر سکیورٹی کے لیے ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو محدود یا مقامی سطح پر چلایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکومتیں اور نجی ادارے اس نئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی لائنوں کو مزید مضبوط کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس قسم کے ذہین سائبر خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔