LIVE
Loading Breaking News...

نیلسن کا ڈبل ویریفائی سودا اور اشتہاری پیمائش کی آزادی

News Image
نیلسن کی جانب سے دو ارب ڈالر کے اس نئے معاہدے نے اشتہاری مارکیٹ میں پیمائش کی آزادی کے حوالے سے نئی بحث چھوٹی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس انضمام سے برانڈز اور ایڈورٹائزرز کے لیے ڈیجیٹل اور میڈیا کی دنیا میں شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی سطح پر میڈیا ریسرچ اور ڈیٹا کے بڑے ادارے نیلسن کی جانب سے دو ارب ڈالر مالیت کے ڈبل ویریفائی سودے نے ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ اشتہاری صنعت کے ماہرین طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ میڈیا کی پیمائش اور اس کے نتائج کا عمل مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیے تاکہ برانڈز کو شفاف ڈیٹا مل سکے۔ تاہم اس تازہ ترین معاہدے نے پیمائش کی اس دیرینہ آزادی اور غیر جانبدارانہ حیثیت کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اس اربوں ڈالر کے سودے کے بعد مارکیٹ کے تجزیہ کاروں اور بڑے برانڈز کے مارکیٹرز کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی چھت کے نیچے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس کی تصدیق کرنے والے ادارے ضم ہو جائیں تو مفادات کے ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اشتہاری مہمات کی کارکردگی جانچنے کے پیمانے متاثر ہو سکتے ہیں اور کمپنیوں کو غیر جانبدارانہ رپورٹس کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برانڈز اور ایڈورٹائزرز کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد درست اور قابل اعتماد ڈیٹا کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ڈبل ویریفائی جیسے پلیٹ فارمز اشتہارات کی سکیورٹی اور ان کے درست مقام پر پہنچنے کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن نیلسن کے ساتھ اس بڑے مالیاتی اتحاد کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آزادانہ مانیٹرنگ کا نظام برقرار رہ پائے گا یا نہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ شفافیت کے فقدان کی صورت میں اشتہاری صنعت کو طویل مدت میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔