Technology
آئیووا ونڈ فارمز کا انوکھا اقدام، چمکتی سرخ بتیاں اب ضرورت کے وقت جلیں گی
آئیووا میں ونڈ فارمز کے مالکان نے رات کے وقت مسلسل جلنے والی سرخ بتیوں کے مسئلے کا بہترین حل نکال لیا ہے۔ اب ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ بتیاں صرف اس وقت روشن ہوں گی جب کوئی طیارہ قریب آئے گا۔
ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ذرائع یعنی ونڈ فارمز دنیا بھر میں صاف توانائی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، تاہم ان کے بلند و بالا ٹاورز کے گرد موجود حفاظتی انتظامات اکثر مقامی آبادی کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ ہوا کی لہروں کو کیچ کرنے والے ان بڑے ٹاورز کی چوٹیوں پر رات کے وقت مسلسل چمکنے والی سرخ بتیاں لگانا ہوائی جہازوں کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاکہ پائلٹس اندھیرے میں اونچی عمارتوں یا ٹاورز سے باخبر رہ سکیں۔ لیکن اس کا ایک بڑا نقصان یہ تھا کہ یہ تیز سرخ بتیاں پوری رات بغیر کسی وقفے کے چمکتی رہتی تھیں، جس سے ونڈ فارمز کے قریب رہنے والے افراد کو شدید بصری آلودگی اور نیند کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس مسئلے کا ایک مؤثر اور سائنسی حل اب ریاست آئیووا کے ونڈ فارمز میں تلاش کر لیا گیا ہے جو کہ ماحول دوست توانائی اور مقامی آبادی دونوں کے لیے ایک بہترین خبر ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت، ان ونڈ ٹاورز پر جدید ریڈار سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں جو قریبی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے طیاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ روایتی طریقوں میں یہ بتیاں ہر وقت روشن رہتی تھیں، چاہے آسمان پر کوئی طیارہ موجود ہو یا نہ ہو۔ اب نئی ریڈار ٹیکنالوجی کی بدولت، یہ سرخ بتیاں عام حالات میں بالکل بند رہیں گی اور اندھیرا رہے گا، جس سے قریبی رہائشیوں کو رات کے وقت پرسکون ماحول ملے گا۔ تاہم، جیسے ہی کوئی طیارہ مخصوص فضائی حدود یا ونڈ فارم کے قریب پہنچے گا، ریڈار سسٹم فوری طور پر خطرے کو محسوس کرتے ہوئے ان سرخ بتیوں کو آن کر دے گا تاکہ پائلٹ کو ٹاورز کی موجودگی کا بروقت ادراک ہو سکے۔ پائلٹ کے گزر جانے کے بعد یہ بتیاں دوبارہ خود بخود بند ہو جائیں گی۔
ایوی ایشن کے شعبے میں سکیورٹی کو اولین ترجیح حاصل ہے اور کسی بھی صورت میں ہوابازی کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی تنصیب سے نہ صرف وفاقی ایوی ایشن کے قوانین اور حفاظتی معیارات کی مکمل پاسداری یقینی بنائی گئی ہے بلکہ زمین پر رہنے والے عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی پرسکون بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے بتیوں کے بلبوں کی زندگی میں بھی اضافہ ہوگا اور بجلی کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔ امریکہ کے مختلف حصوں میں اس ماڈل کی کامیابی کے بعد اب دیگر ریاستیں اور ممالک بھی اس طرح کے نظام کو اپنے ہاں نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ گرین انرجی کے فروغ کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے، جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی ایک بہترین مثال ہے۔