LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا ایچ ون بی اور ایل ون ویزا فیسوں میں توسیع کا اعلان

News Image
امریکہ نے بڑے آجرین کے لیے ایچ ون بی اور ایل ون ویزا کی توسیع کی درخواستوں پر بالترتیب 4000 اور 4500 ڈالر فیس نافذ کر دی ہے۔ یہ نئے قوانین 9 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے جو پہلے صرف ابتدائی درخواستوں کے لیے تھے۔
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ نے جمعہ کے روز نئے اور سخت قوانین کا باضابطہ اعلان کیا ہے جن کے تحت بڑے آجرین کے لیے ایچ ون بی (H-1B) اور ایل ون (L-1) ویزا کی توسیع کی درخواستوں پر بھاری فیسیں عائد کر دی گئی ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق اب ملازمین کے ویزوں کی مدت بڑھانے کے لیے بڑی کمپنیوں کو ایچ ون بی درخواست پر 4 ہزار امریکی ڈالر اور ایل ون درخواست پر 4 ہزار 500 امریکی ڈالر فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ نئی ہدایات نو ستمبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس اقدام سے امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد اور ان کے آجر اداروں پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں یہ اضافی فیسیں صرف ان درخواستوں پر لاگو ہوتی تھیں جو پہلی بار یا ابتدائی طور پر دائر کی جاتی تھیں، لیکن اب ان کا دائرہ کار ویزا کی توسیع تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد امریکی لیبر مارکیٹ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امیگریشن کے عمل کو مزید سخت بنانا ہے۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنیاں جو بڑی تعداد میں غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرتی ہیں، اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا ماننا ہے کہ اس سے ہنر مند افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس فیس کے نفاذ سے ملنے والے فنڈز کو ملکی سطح پر افرادی قوت کی تربیت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس حوالے سے مختلف کارپوریٹ اداروں اور قانونی ماہرین کی جانب سے تفصیلی جائزے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے تاکہ اس بات کا تخمینہ لگایا جا سکے کہ اس فیس کے طویل المدتی اثرات امریکہ کی معیشت اور عالمی ٹیلنٹ مارکیٹ پر کیا مرتب ہوں گے۔