LIVE
Loading Breaking News...

مکحہ دفاعی معاہدہ اور ایران کا امریکہ پر انحصار کا خاتمہ

News Image
تہران نے حالیہ خطے کی پیش رفت میں مکحہ دفاعی معاہدے کو امریکہ پر انحصار ختم کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان تہران میں اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تہران میں سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے خطے میں ہونے والے نئے دفاعی اور سیاسی معاہدوں کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس میں یہ بات زور شور سے کہی گئی ہے کہ مکحہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ اور خطے کے ممالک کے لیے روایتی طور پر امریکہ پر کیے جانے والے دفاعی انحصار کا ایک بہترین اور موثر متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے علاقائی تعاون سے بیرونی طاقتوں کا اثر و رسوخ کم ہوگا اور خود مختار دفاعی ڈھانچے کو فروغ ملے گا۔ اسی پس منظر میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مسلم ممالک کو آپس میں قریبی تعاون کرنا چاہیے تاکہ درپیش چیلنجز سے احسن طریقے سے نبردآزما ہوا جا سکے۔ دوسری جانب کویت کے وزیر خارجہ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ کو اس نئے دفاعی اور سٹریٹیجک معاہدے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، خلیجی اور علاقائی ممالک کے مابین اس قسم کے سفارتی رابطے اور دفاعی اشتراک دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانے اور باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے کی طرف تیزی سے گامزن ہیں۔