LIVE
Loading Breaking News...

چاند کے سفر کے لیے خلائی نیویگیشن اور سیٹلائٹس کا نظام

News Image
زمین کی طرح خلائی سفر میں بھی بہتر نیویگیشن کے لیے ہائی آربٹ سیٹلائٹس کا نظام وضع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چاند اور زمین کے درمیان کے خلاء میں سفر کرنے والے خلائی جہازوں کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔
زمین پر رہتے ہوئے ہمارے لیے پوزیشننگ کے نظام یعنی جی پی ایس کی بدولت نیویگیشن کے عمل کو سمجھنا اور استعمال کرنا انتہائی آسان ہو چکا ہے، جہاں یہ ٹیکنالوجی پس منظر میں خاموشی سے کام کرتی ہے۔ تاہم، زمین اور چاند کے درمیان کے علاقے یعنی سِس لুনر اسپیس میں سفر کرنے والے خلائی جہازوں کو فی الحال اس طرح کے جدید اور خودکار نیویگേഷنی نظام کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ مستقبل میں چاند پر انسانی بستیوں اور مسلسل مشنز کے پیشِ نظر اس خلاء میں بھی درست سمت اور پوزیشن کا تعین کرنا انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس خلاء میں نیویگیشن کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہائی آربٹ سیٹلائٹس ایک بہترین اور قابلِ عمل حل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹس زمین اور چاند کے مداروں کے درمیان اس طرح نصب کیے جائیں گے کہ وہ خلائی جہازوں کو مسلسل سگنل اور درست ڈیٹا فراہم کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف خلائی سفر کا وقت اور ایندھن بچے گا بلکہ روایتی زمینی گراؤنڈ اسٹیشنز پر انحصار بھی نمایاں طور پر کم ہو جائے گا جو کہ طویل فاصلے کے خلائی مشنز میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے خلائی جہاز خودکار طریقے سے اپنے راستے کا تعین کر سکیں گے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال یا ہنگامی مرحلے میں فوری فیصلے لینے کے قابل ہوں گے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس نظام کے مکمل ہونے کے بعد چاند کے لیے تجارتی پروازوں اور سائنسی مشنز کا راستہ مزید ہموار ہو جائے گا۔ آنے والے برسوں میں خلائی اداروں کی جانب سے اس منصوبے پر عملی کام تیز کیے جانے کی توقع ہے تاکہ خلاء میں ایک مضبوط اور پائیدار بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔