LIVE
Loading Breaking News...

چین امریکی جنگی جہازوں کی نقل کیوں بنا رہا ہے؟

News Image
چین کی جانب سے امریکی جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی نقلیں بنانے کا مقصد فوجی تربیت اور عسکری صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بدلتی ہوئی عسکری صورتحال اور تائیوان کے تنازع کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق چین کی جانب سے امریکی جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی ہو بہو نقلیں (Replicas) تیار کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر عسکری ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیجنگ ایسے ماڈلز کیوں بنا رہا ہے اور اس کے پیچھے کیا عسکری حکمت عملی کارفرما ہے؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد اپنی افواج کو ممکنہ تنازعات کے لیے تیار کرنا اور جدید جنگی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کے فرضی اہداف کا استعمال عسکری مشقوں، میزائلوں کی آزمائش اور فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ چین اپنی فوجی تیاریوں کو اس سطح پر لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ کسی بھی ممکنہ بحری یا فضائی تصادم کی صورت میں مؤثر حکمت عملی اپنا سکے۔ خاص طور پر تائیوان کے اردگرد کے سمندری اور فضائی حدود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، اس قسم کی تربیت چینی فوج کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس پیشرفت پر مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ کی عسکری قیادت کی بھی گہری نظر ہے۔ امریکی دفاعی اداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نقلی تنصیبات اور ماڈلز سے چین کو اپنے ہتھیاروں کے نشانہ بازی کے نظام کو مزید نکھارنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے چینی فوج کو یہ سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے کہ امریکی جنگی اثاثوں کے خلاف کون سے عسکری ہتھکنڈے زیادہ کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور اپنی عسکری برتری ثابت کرنے کی دوڑ کا حصہ ہیں۔ جہاں ایک طرف چین اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور جنگی صلاحیتوں کو جدید تر کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف بین الاقوامی برادری اس قسم کے اقدامات کو مستقبل کے ممکنہ جیو پولیٹیکل منظر نامے کے تناظر میں انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کی عسکری سرگرمیاں عالمی سیاست پر مزید گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔