LIVE
Loading Breaking News...

خیالات پڑھنے والی اے آئی ٹیکنالوجی: نیا کمپیوٹنگ پلیٹ فارم

News Image
مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اب ایسی برین انٹرفیس ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں جو خیالات کو براہ راست متن میں تبدیل کر سکے۔ ایک سابق اوپن اے آئی محقق نے بھی اس نئے منصوبے کے تحت ایک اسٹارٹ اپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز انقلاب کی تیاری کی جا رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیاں اب انسانوں کے خیالات کو پڑھنے اور انہیں تحریر میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہی ہیں۔ یہ خیال اب محض سائنس فکشن نہیں رہا بلکہ حقیقت کا روپ دھارتا جا رہا ہے جہاں دماغی لہروں کو سمجھ کر کمپیوٹر یا اسکرین پر الفاظ کی شکل دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق، اوپن اے آئی کے ایک سابق محقق نے ایک ایسے نئے اسٹارٹ اپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے جو خصوصی طور پر اے آئی پر مبنی برین انٹرفیسز تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔ اس جدید ترین تحقیق کا مقصد تھٹ ٹو ٹیکسٹ (thought-to-text) ٹیکنالوجی کو عام کرنا اور اسے مستقبل کا سب سے بڑا کمپیوٹنگ پلیٹ فارم بنانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے آنے سے انسانی مواصلات اور کمپیوٹر کے ساتھ تعامل کا انداز یکسر بدل جائے گا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بولنے یا لکھنے سے قاصر ہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کی آمد سے ڈیٹا کی رازداری اور انسانی ذہنی نجی زندگی کے حوالے سے بھی شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی ہمارے خیالات کو پڑھنے لگی تو یہ انسانی پرائیویسی پر سب سے بڑا حملہ ہوگا۔ اس کے باوجود سرمایہ کار اور محققین اس شعبے میں بے پناہ دلچسپی لے رہے ہیں اور کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیکنالوجی عام انسانوں کی زندگی میں کس طرح تبدیلی لاتی ہے اور اس کے اخلاقی اور قانونی تقاضے کس حد تک پورے کیے جاتے ہیں۔