Technology
آکسفورڈ نینو پور منی آئন ڈی این اے سیکوینسر کا تکنیکی جائزہ
آکسفورڈ نینو پور کے منی آئন ڈی این اے سیکوینسر نے بائیو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے جو کہ سائز میں چھوٹا اور انتہائی کم خرچ ہے۔ یہ ڈیوائس لیبارٹری سے باہر فیلڈ میں بھی ڈی این اے کے تجزیے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
ڈی این اے سیکوینسنگ کا نام آتے ہی عام طور پر ذہن میں بڑی، مہنگی اور پیچیدہ لیبارٹری مشینز کا خیال آتا ہے جو صرف مخصوص اور جراثیم سے پاک ماحول میں کام کرتی ہیں۔ تاہم، جدید ٹیکنالوجی نے اس میدان میں بھی حیرت انگیز پیش رفت کی ہے اور اب ایسے پورٹیبل آلات مارکیٹ میں آ چکے ہیں جو جیب میں سما سکتے ہیں۔ آکسفورڈ نینو پور کا منی آئন (MinION) ڈی این اے سیکوینسر اسی انقلابی ٹیکنالوجی کی ایک بہترین مثال ہے جس نے سائنسی تحقیق کو عام آدمی کی رسائی کے قریب کر دیا ہے۔
حال ہی میں اس ڈیوائس کا ایک تفصیلی تکنیکی جائزہ سامنے آیا ہے جس میں اس کی اندرونی ساخت اور نینو پور چپ کے رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اس چھوٹے سے آلے کے ذریعے اب فیلڈ ریسرچ کرنے والے سائنسدان اور محققین لیبارٹری سے باہر جنگلات، بیابانوں یا کسی بھی دور دراز علاقے میں جا کر ڈی این اے کا فوری تجزیہ کر سکتے ہیں۔ یہ ڈیوائس عام لیپ ٹاپ کے ساتھ یو ایس بی پورٹ کے ذریعے منسلک ہو جاتی ہے اور ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرتی ہے۔
نینو پور ٹیکنالوجی کی اصل طاقت اس کی منفرد چپ میں پوشیدہ ہے جس میں مائیکروسکوپک سوراخ یا نینو پورز بنے ہوتے ہیں۔ جب ڈی این اے کا مالیکیول ان سوراخوں سے گزرتا ہے تو برقی رو میں تبدیلی آتی ہے جس کا تجزیہ کر کے ڈی این اے کی ترتیب کا پتا لگایا جاتا ہے۔ یہ عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں انتہائی تیز اور سستا ہے، جس کی وجہ سے میڈیکل سائنس، زراعت اور فرانزک کے شعبوں میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ وبائی امراض کی بروقت تشخیص اور ان پر قابو پانے میں بھی بڑی مدد ملتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس قسم کے پورٹیبل سیکوینسرز طبی میدان میں ایک نیا باب رقم کریں گے اور عام ڈاکٹر یا محقق بھی بیماریوں کے جینیاتی اسباب کو باآشانی سمجھ سکیں گے۔