Entertainment
نوے کی دہائی کے کتابی کلچر کی یادیں اور لازمی اشیاء
نوے کی دہائی میں ایمیزون کے عروج سے پہلے کتابوں کی بڑی دکانیں ثقافتی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس دور کی کتابوں کی دکانوں میں کچھ ایسی خاص چیزیں اور ماحول ہوتا تھا جو اب ناپید ہو چکا ہے۔
اس سے پہلے کہ ایمیزون دنیا کا سب سے بڑا آن لائن ریٹیلر بنتا اور دنیا بھر میں روایتی کتابوں کی دکانوں کے وجود کو خطرے میں ڈالتا، نوے کی دہائی کا دور کچھ اور ہی تھا۔ اس زمانے میں کتابوں کی بڑی دکانیں محض تجارتی مراکز نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی میل جول کی جگہیں ہوا کرتی تھیں۔ لوگ وہاں گھنٹوں گزارتے تھے، مطالعہ کرتے تھے اور نئی دنیاؤں کی سیر کرتے تھے۔ نوے کی دہائی کے ان بک اسٹورز کا ماحول آج کے ڈیجیٹل دور سے بالکل مختلف اور یادگار تھا۔
نوے کی دہائی کے ہر بک اسٹور کی ایک اہم پہچان وہاں موجود خصوصی کاؤنٹرز اور میگزین سیکشنز تھے۔ ان دکانوں میں صرف کتابیں ہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے تعلیمی کھلونے، پزلز اور مختلف قسم کے اسٹیشنری آئٹمز بھی دستیاب ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ، کیسٹ اور سی ڈی کا دور ہونے کی وجہ سے وہاں موسیقی اور آڈیو بکس کا بھی ایک الگ کونہ ہوتا تھا جہاں نوجوان اکثر اپنا وقت گزارتے تھے۔
ان دکانوں کی ایک اور خاص بات وہاں کے کافی شاپس یا بیٹھنے کے لیے مخصوص آرام دہ کُوچز تھے جہاں لوگ کتاب خریدے بغیر بھی بیٹھ کر مطالعہ کر سکتے تھے۔ دکانوں کے عملے کی کتابوں سے محبت اور ان کی گہری معلومات خریداروں کی بہترین رہنمائی کرتی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کلچر زوال پذیر ہو گیا، لیکن نوے کی دہائی میں پلا بڑھنے والی نسل آج بھی ان دکانوں کی مہک اور ماحول کو شدت سے یاد کرتی ہے۔